رمضان : لاہور سے ملتان

Kamran Khawaja
3rd Year MBBS


"رمضان کے۔ ای میں" 

پاکستان میں رمضان کے با برکت  مہینے میں ہر طرح کی ڈشز پکتی ہیں . روزہ داروں  کے لیے خوب اہتمام کیا جاتا ہے . کھانے کی میز پر طرح طرح کے کھانے پیش کیے جاتے ھیں۔ 


حتی کہ شادی کرانے والی سکینہ آنٹی، جو ہر گھر جا کے کھاتی  ہے وہ بھی رمضان میں خود کچھ اچھا پکانا شروع کر ہی دیتی ہے۔

لیکن . کے ۔ای کے  ہوسٹل میں وہیں کلاسیکل دال چاول اور بیمار مرغی کے انڈوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا گیا۔ 

کے۔ای کے گرلز ہاسٹل میں لڑکیوں کا دال چاول لینے کی لمبی لمبی لائنز سے لے کر افطاری کسی اور کے گھر جا کے کرنے کی ساری کوششیں آخر کر رنگ  لائیں

 زمانہ شکستہ ،پرندوں کے فلوئڈ سے لیس "خوبصورت" کے .ای کی  دیواروں کے بیچ رمضان  گزارنا اسٹوڈنٹس کے لیے 
. . .محال  ہو گیا تھا   
وی ۔سی صاحب نے آخر کار  اپنے 
Adductor Pollicis  
کو نہ  چاھتے ہوئے استعمال کیا اور چھٹیوں کے نوٹیفکیشن
 پے  سائن کر ہی دیا

------------------------------
Photo: Google

"نشتر ہوسٹل میں میری پہلی سحری"

میں اپنے دوستوں  کے  ہمراہ اقبال ہال میں سحری کے لئے پہنچا۔ وہاں پہنچ کر میں کرسی پر بیٹھ گیا اور کھانا آنے کا انتظار شروع ہو گیا ۔میں سوچ رہا تھا کہ کہیں انکل رحیم کے کچے  پکّے بیمار مرغی کے انڈے لاے جایں گے ۔پانچ منٹ بعد پتا چلا کہ یہاں کوئی آپ کو کھانا دینے نہیں آے گا۔میں ذرا پریشان سا ہوا کہ یہ کیا طریقہ ہے۔آخر ہم کمکولین ھیں۔ دوست نے مجھے کرسی سے اٹھایا اور صحن کے کونے میں لے گیا ۔۔وہاں گیا تو جناب کیا دیکھتا ہوں 11 کھانو کے الگ الگ برتن میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیے ۔میری ناساز آنکھوں کو 11 الگ الگ کھانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔دوست نے بتایا کہ یہاں پر اپنی مرضی کا کھانا خود لے کر جانا ہوتا ہے ۔میں نے ایک دافعہ پھر سے دیکھا۔
 بڑا گوشت ، ۔ آلو مرغ،  ۔ کوفتے، آلو قیمہ ،   آلو پالک ،  دال ماش، پیاز بھنڈی ،  نہاری ، ۔ چنے، بریانی ،  پیاز انڈا میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیے ۔دس  منٹ تک سوچتا  رہا کہ آخر کھاؤں تو کھاؤں کیا۔

ایک دوست نے کوفتے اور بریانی  کا مشورہ دیا۔

دوسرے دوست نے آلو قیمہ اور دال ماش کا کہا ۔۔

آخر کار سوچ بچار کے بعد آلو مرغ، چنے اور دال ماش کھانے کا فیصلہ ہوا ۔پھر کیا، ہم نے ٹیبل کرسی ساتھ لگا کر کھانا شروع کر دیا ۔میں نے سمجھا کہ آج بھی چمڑے کی طرح سخت پراٹھے کھانے کو ملیں گے لیکن قسمت نے یہاں بھی بڑا ساتھ دیا ۔۔ریشم کی طرح نرم پراٹھے ۔اور تو اور ایک صاحب پوچھنے آے اگر پراٹھے نہیں کھانے تو سادی روٹی بھی بنی ہوئی ہے ۔ہم نے اس کے انداز پے "میں قربان جاواں" والی دعا دی ۔ابھی ہم نے  کھانا شروع ہی کیا کہ وہاں پر دہی لا دی گیئ۔دہی کے بعد لسی  کے ٹھنڈے مگ ۔۔
میں سوچ رہا تھا کہ میں آج کہیں کسی دعوت پہ تو نہیں آگیا ۔۔جب میں نے  ساتھ بیٹھے دوست کی پھٹی شرٹ دیکھی تو یقین ہوا کہ دعوت تو ہو نہیں سکتی۔خیر ہوسٹل کے وجود کو ماننا پڑا۔ کھانا ختم ہونے ہی والا تھا کہ فروٹ چاٹ کی پلیٹ سے مقابلہ کرنا پڑا۔ چھری کانٹے پکڑاے گئے ۔ اب کی بار ہماری ہمّت جواب دے چکی تھی ۔جتنوں کو شہید کر سکتے تھے کیا اور  باقیوں کو قید کرنا پڑا ۔اللّه کا شکر کر کے ہم وہاں سے اٹھے ۔میں نے سوچا اب کچھ اور نہیں کھاؤں گا ۔ اچانک سے ایک دوست نے ہاتھ میں چاۓ تھما دی ۔کبھی چاۓ کو دیکھتا ،کبھی پیٹ پر ہاتھ رکھتا ،کبھی دوست کی محبّت بھری تکتی آنکھوں کو دیکھتا ، ابھی  میں چاۓ ،پیٹ،اور دوست کی محبّت بھری آنکھوں کی کشمکش میں ہی تھا کہ دوسرے دوست نے ملک شیک کی فرمائش  کر دی ۔۔مینے اپنی آنکھیں جھکائیں، پیٹ پر ہاتھ لگایا ،جلدی سے چاۓ دوست کو واپس کی اور ہال سے نکل بہر کھڑا ہوا ۔۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ دوستوں کی اتنا مہمان نوازی پر  غصہ کروں یا  
پھر اتنا بڑا میس مینو بنانے والوں پر؟
 🤔


Comments

Popular posts from this blog

Final Year Surgery Exam: Important topics

FSc Premedical Guide - How to fly high..

USMLE Step 1 Experience by Ayaz Mehmood (Score : 99/266)