آنکھیں

(Class of 2022)محمد توصیف۔


وہ آنکھیں۔۔۔۔۔۔دو آنکھیں ۔۔۔۔۔۔ یوں جھانکیں کہ میں اس
حسین منظر کو لفظوں کی آغوش میں قید تو نہیں کر سکتا
مگر ان کے تخیل کو جملوں کی صورت میں پرونے کی
ایک مھین سی جستجو تو کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی سنگھم سے سرشار سڑک کا چوراہا۔ ہر طرف بسوں ویگنوں کا شور اور اسی ہنگامے میں کچھ مخصوص نعرے اس قدر با آواز بلند لگائے جا رہے تھے کہ ان کے ہوتےہوے صور پھونکنے کی بھی ضرورت پیش نہ آئے "لاہور اے۔۔۔لاہور اے۔۔۔لاہوراے" "لاری اڈہ ۔۔۔۔۔۔لاری اڈہ۔۔۔۔۔لاری اڈہ" "ٹیشن۔۔۔۔۔ٹیشن۔۔۔۔۔ٹیشن" تین تین دفعہ نعرے کو دھرنے کو کوئ خاص وجہ نہیں بس میرا مزہبی رجہان ہے آگے آپ سمجھدار ہیں۔


اسی ہنگامے اور شور شرابے میں دو پل کے لئے ان چمکتی فیروزی آنکھوں کا مجھے گھورنا کے جیسے میں ان آنکھوں میں ڈوبتا چلا جا رہا ہوں۔اس دو پل کے لئے میرے لئے ہر طرف سناٹا سا چھا گیا اور اس سکوت میں صرف میں اور وہ نشیلی آنکھیںسڑک کے چوک میں فوارے کے پاس کھڑی وہ مجھے ہی تک رہی تھی جبکہ میں سڑک کے دوسرے کنارے پہ کھڑا تھا۔اجسام فلکی جیسے کہکشاں ستارے اور سیاروں کی وسعت بھی میرے لئے کچھ معانی نہیں رکھتی جتنی ان آنکھوں کی گہرائی تھی کہ اس کو ماپنے کے لئے میرے پاس کوئ آلہ نہ تھا۔کالی کالی زولفوں کو سہلاتی ہوئی ٹھنڈی ہوا ،سورج کی تابناک تیز کرنیں اور ان زولفوں کے بادلوں میں چھپی وہ آنکھیں مجھے یوں گھور رہی تھی کے جیسے اس میں اور مجھ میں برسوں کی جان پہچان ہو مگر ان میں ایک عجیب سی اجنبیت تھی۔ ٹریفک اور پھیری والوں کا اتنا شور تھا کے یہ چڑیا گھر معلوم ہوتا تھا مزید سونے پہ سوہاگہ یہ کہ یہ چوک چڑیا گھر کے قرب و جوار میں ہی تھا اور اس سے مراد لاہور مال روڈ کا وہ چوک ہے جو چڑیا گھر کے قریب ہے۔وہاں پر جانوروں اور سماجی جانوروں
کا شور کانوں کے پردوں کے ساتھ ایسا ارتعاش پیدا کر رہا تھا کہ دونوں آوازوں میں کچھ زیادہ فرق معلوم نہ ہوتا تھا۔ اسی زمزمہ میں اس نے اپنی آنکھیں مجھ پر ٹکائ ہوئ تھیں۔سفید عدسے کے درمیان کالی دھاری جو نیلے قرنیے میں گھری ہوئی تھی اور اس کے اوپر شفاف پردہ۔یہ آنکھیں آسمان جیسا سماء پیش کر رہی تھیں جیسے سارے بادل اس کی قید میں آگئے ہوں ۔اس خوبصورت آنکھوں کی صراحی نے مجھے وہ جام پلایا کہ میں بے ساختہ گنگنا اٹھا "بلو آئیز ہپنوٹائیز کر دی اے مینوں" یہ گانا موقع کی مناسبت سے تو ٹھیک ہے مگر اس گانے کے لئے ہاتھوں کو یوں جنبش دینی پڑے اور چہرے کی شکل کچھ اس قسم کی بنانی پڑے کہ دو پل کے لئے وہ آنکھیں بھی کشمکش میں پڑ جائیں۔ اس کشمکش سے صرف وہ آنکھیں ہی نہیں جوجھ رہی تھیں بلکہ میری امی کو بھی یہ کشمکش اکثر لاہک ہو جاتی ہے کہ وہ ڈاکٹر کو میسیج کر دیتی ہیں کہ بظاہر تو میرا بیٹا ٹھیک ہے مگر اس کی حرکتیں انسانوں والی نہیں اور ڈاکٹر صاحب نے بھی بڑے آرام سے ہر تین ہفتے میں ایک ٹیکا لگانے کا مشورہ دے
دیا۔
مگر میں نے ایسے کرنے سے پرہیز کیا۔وہ آنکھیں ابھی بھی مجھے گھورے جا رہی تھیں اور گاڑیاں " زائییں شائیں" کرکے اڑے جا رہی تھیں مگر ان آنکھوں  اور میرے درمیان کوئ رکاوٹ ہائل نہ ہوئ ۔پھر ایک دم چوک کے فوارے سے پانی کا قطرہ اس کی گھنی کالی زلفوں پر آکر گرا اور اس نے اپنی زلفوں کو یوں سہلایا جیسے بارش کے موسم میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا درخت کے پتوں کو سہلاتی ہے۔اسی اثنا میں اک مسافروں سے لدی پھندی بس میرے سامنے آکر رکی اور وہ "بلی" اپنے رآستے کی طرف چل نکلی۔اس کی اور میری آنکھوں کی آنکھ مچولی کا سلسلہ یہاں پر منقطع ہوا۔


میں بس میں بیٹھا اس سوچ میں مستغرق تھا کہ وہ آنکھیں مجھے کیا کہنا چاہتی تھیں؟؟؟میں ان لمحوں کو کبھی نہیں بھول سکتا اور انھوں نے میری شخصیت پر ایسے اثرات نقش کئے کہ اب بھی اگر میں اندھیری سڑک پر یہ گنگناتا پھروں "بیتے لمحے" تو وہی نظارہ میرے سامنے پھر جائے۔
:نوٹ


یہ تحریر محض تفریح کے لئے اور قدرت کے حسین منظر سے لطف اندوز ہونے کے لئے ہے۔اگر کوئ لغت،املا یا حرف کی غلطی ہو تو اس سے ضرور آگاہ کریں تاکہ غلطی کی اصلاح کی جائے۔شکریہ
آپ کا مشکور محمد توصیف۔



Comments

Popular posts from this blog

USMLE Step 1 Experience by Ayaz Mehmood (Score : 99/266)

FSc Premedical Guide - How to fly high..

Final Year Surgery Exam: Important topics