استدعا

استدعا
صبح صادق۔۔درختوں کی اوٹ سے نکلتا خوشآب سورج۔۔ ننھی منھی کلیوں 

سےنکلتے پھول۔۔۔ خوش الحان پرندوں کی حمدوثنا۔۔بچوں کی کلکاریاں۔۔۔۔۔ زندگی کہیں بہت حسین تھی۔ وقت کی سؤیاں تبدیل ہوئیں اور ادھر منظر بدلا۔ جس فضا میں پہلے زندگی تھی وہاں اب موت کی بو رچی ہے۔ جاں کنی کے عالم میں یہی دعا نکلی کہ کاش آج کا سورج طلوع ہی نہ ہوتا۔ یہ کسی مصنف کا افسانہ نہیں۔ افسوس ۔ حقیقت ہے_____ ے اس شہر خموشاں کی ۔۔۔۔۔۔ جہاں کے پتھر سانس لے رہے ہیں مگر احساس سے عاری ہیں۔ جاں آنکیں منظر تو دیکھتی ہیں مگر ساکت ہیں۔ جہاں لب انسانی حقوق کے ترانے تو گا سکتے ہیں مگر انسانیت سوز بربریت پر خاموش ہیں۔ تصویر کے دو رخ ہیں۔۔۔ ایک وہ جس میں مہذب معاشرہ انسانی حقوق کےترانے گاتا نظر آتا ہے۔ اور دوسری طرف ان علمبرداروں نے ظلمت اور بربریت کا ایسا بازارسرگرم کر رکھا ہے کہ گولیوں کی تڑتڑاہت اور معصوم نفوس کی رحم طلب چیخوں میں ان کے اپنے ترانے کہیں دب جاتے ہیں۔
اس نفسانفسی کے عالم میں ہم سوائے لفظی و تحریری مزمت کے اور کچھ نہیں کر سکتے۔ مگر اس تحریر کا مقصد محض اک اور مزمت نہیں۔ اک امید ہے کہ ہمارے لائق اک کام ابھی باقی ہے۔ اپنے ہاتھوں اور لبوں کو حرکت دو۔۔۔ظلمت کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے نہیں کہ اس کی ہم میں سکت نہیں۔ بلکہ خدا سے دعا کرنے کے لیے ۔ مرنے والوں کے لیے اک بار فاتحہ پرھنے کے لیے۔ بچ جانے والوں کے لیے دعاے خیر کرنے کے لیے۔۔اس امید پہ کہ ہرنمرود کے لے اک مچھر ۔۔ اور ہر فرعون کے لے اک موسی ہے۔

Comments

Post a Comment

Your feedback is appreciated!

Popular posts from this blog

Final Year Surgery Exam: Important topics

FSc Premedical Guide - How to fly high..