پروف والے سِیزنل نمازی

بقلم : "حارث اقبال"


(~ یہ بات پہلے گوش گزار کر دوں کہ اس تحریر کو سرسری طور پر مت پڑھیں، اسکو پڑھ کر سوچنا مقصود ہے ورنہ قاری کے پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں! ~) 

ابھی ماضی قریب کی ہی بات ہے کہ ایک دن میں ہاسٹل کی واحد مسجد میں دوپہر کے وقت پہنچا تو باہر لا تعداد جوتیاں دیکھ کر حیرانی ہوئی، (نیز یہ جوتیاں مختلف انواع کی تھیں، اور کسی بھی جوتا چور کے لیے یہ سنہری موقع تھا!) 
اندر جوتیوں کے مالکان دھڑا دھڑ ٹوپیاں اپنے سر پر رکھتے اور وضو کرتے نظر آئے_
گویا "ہٹو بچو" کا عالم تھا. 
یک دم خیال آیا کہ کہیں آج جمعہ تو نہیں، لیکن اللہ بھلا کرے میرے توانا مغز اور چھٹی حِس کا کہ جسنے اس بات کی تردید یہ دلیل دے کر کی کہ ابھی کل ہی تو جمعہ پڑھا تھا_
پھر ایک خیال نے مزید دماغ کو گرفت میں لیے رکھا کہ شاید امام صاحب نے کوئی خصوصی اعلان کرنا ہو یا پھر لنگرِ عظیم کا وسیع اور خاطرخواہ بندوبست ہو اس لیے طلبا کا جمِّ غفیر شاید حسبِ توفیق اپنے پیٹ اور جیبوں کو بھرنے آیا ہو گا، لیکن اندر نہ ہی کوئی دیگ نظر آئی اور نہ کوئی دستر خوان جس پر قدرے مایوسی ہوئی! 
اندر پہنچا تو ان گنت نئے چہرے نظر آئے جنکو ان گنہگار آنکھوں نے پہلے ہاسٹل میں پہلے کبھی نہ دیکھا تھا! 
کون تھے یہ لوگ؟
کیا اللہ نے فرشتوں کو مسجد کی صفوں کو بھرنے کے لیے آسمان سے انسانی شکلوں میں بھیجا تھا؟
کیا یہ یونیورسٹی کے ہی طلبا تھے یا پھر تبلیغ کی غرض سے دوسرے اداروں سے آئے تھے؟ 
خیر تشویش لا حق ہوئی اور میں نے انکا پیچھا کرنے کی ٹھان لی، منصوبے کے مطابق نمازِ ظہر کے بعد ایک ماہر جاسوس کی طرح اس خلائی مخلوق کا پیچھا کیا تو حیرت انگیز انکشاف ہوا، 
ہر بندہ ہاسٹل کے کسی نہ کسی حجرے کا مقیم تھا، ایک شخص کا جب اسکے کمرے تک پیچھا کیا اور سر تا پیر بغور دیکھا تو وہ مجھے گھورنے لگ گیا کہ کہیں میں ناپاک عزائم لے کر تو نہیں آیا!
خیر مجھے جواب مل گیا تھا! 

"یہ سب لوگ اپنی ہی یونیورسٹی کے طلبا تھے اور ہاسٹل میں قیام پذیر تھے"

لیکن تشویش اپنی جگہ پر برقرار رہی!
پہلے لا تعداد جوتیاں اور پھر اندر نت نئے چہرے، اور پھر وہ دن جمعہ نہیں تھا، اور پھر رات کو بھی یہی منظر، 
اگلے دن بھی یہی صورتحال اور اس سے اگلے دن بھی! اور پھر اس سے اگلے دن بھی!
حتی کہ اس مخلوق کا راتوں کو وظائف کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا تھا! 

پریشانی کے عالم میں رات کو سوچوں کے گھوڑے دوڑاتے باہر ٹہل رہا تھا کہ اچانک ایک سینئر بھائی کو دوسرے بھائی سے یہ کہتے سنا:

"جانی مسجد چل نماز کا وقت ہے اور پراف بھی قریب آ چکا ہے!"

مجھے میرے تمام سوالوں کا جواب مل چکا تھا! 
اس ایک جملے نے میرے دو دن کی مسلسل غوروفکر کا اختتام کر دیا تھا! 
خیر! 
یہ تو تصویر کا ایک رخ تھا، لیکن اب آتے ہیں دوسری طرف! 

یہ بات ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ پراف جیسا کٹھن امتحان محنت کے بغیر پاس کرنا نا ممکن ہے، کہیں سرجری ہمارا دماغ کھانے کو ہے تو کہیں میڈیسن، کہیں پیتھولوجی ہمارا خون چوس رہی یے تو کہیں فارما، کہیں ہارپر ہمیں بے عقل ثابت کر رہی ہے تو کہیں وہ اناٹمی کی لال کتاب! 
ہم سارا سال محنت کے موضوع پر گفت و شنید کرتے بھی ہیں اور نہیں بھی، اور ایک دوسرے کو "سنیک"، "کیڑا" اور "تھیٹا" کے القابات سے نوازتے ہیں لیکن جونہی پراف قریب آتا ہے اور وائیوا کا سیزن آ جاتا ہے تو ہم شدید محنت کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ
"جی سب قسمت کا کھیل ہے!" 
اور اس وقت ہم اپنی "سو-کالڈ قسمت" کو ناکامی کے گہرے سمندر میں ڈوبنے سے بچانے کے لیے مساجد کا رخ کرتے ہیں، اللہ کو یاد کرتے ہیں اور سارا سال "صدقے" کی "ص" سے بھی نا واقف رہ کر صدقہ بھی کرتے ہیں کہ شاید ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ملے اور وہ رب دعا قبول کر کے پاس کر دے_

اور پھر حیرت انگیز طور پر ہم اچھے نمبروں کی ساتھ پاس بھی ہو جاتے ہیں، کیونکہ اللہ دعا کو رائیگاں نہیں جانے دیتا، وہ مشکل وقت میں حاضر رہتا ہے اپنے بندوں کے لیے، خواہ بندے نے سارا سال اسے یاد کیا ہو یا نہیں_
اور جونہی وہ پراف جیسی وقتی غرض ختم ہو جاتی ہے تو دوبارہ مساجد میں صفوں کی تعداد اِکا یا دُکا رہ جاتی ہے، پھر آپکو نا معلوم چہرے نظر آنا ختم ہو جاتے ہیں اور ایک نئے سرے سے یہ پہیہ گھومتا رہتا ہے آگلے پراف تک، اگلی غرض تک____! 
میں یہ بلاگ کبھی نہ لکھتا اگر میں اس شے کا مشاہدہ روز روز نہ کرتا، ہمیں معلوم نہیں ہے کہ ہم ہر وقت اس ذات کے محتاج تو ہیں ہی، 
لیکن ہم اس پاک رشتے کو "اپنی غرائض" کے لیے "استعمال" کرتے ہیں، کیا بندے اور رب کا رشتہ یہی رہ گیا ہے کہ جب کوئی غرض آئی تو دعائیں کرنا اور نمازیں پڑھنا شروع کر دیں اور غرض ختم ہونے کے بعد سب بھول گئے؟ 

الغرض اس دھندے میں: میں، آپ اور سبھی لوگ شامل ہیں،
ہم لوگ "سِیزنل نمازی ہیں، رب کی نعمتوں کے بیوپاری ہیں، اور  مشکلات کا سیزن آنے پر گاہک بن جاتے ہیں اور آخر میں شکر کرنا بھی بھول جاتے ہیں اور اسطرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے"

ہمیں اپنی اس عادت پر شرم بھی نہیں آتی! 

ہم نے خدا کی نعمتوں کا نا جائز استعمال کیا، استحصال کیا اور جب وہ نعمت چھین لی جاتی ہے تو نعوذبااللہ اسکا ذمہ دار بھی رب کو ٹھہرایا جاتا ہے!
اس سب کہانی کا خلاصہ امام مالک کے قول سے واضح ہے کہ:

"آج کا انسان کسی رشتے میں سچا اور کھرا نہیں ہے، نہ ہی آپس میں، نہ ہی رب کے ساتھ، حتی کہ اللہ کی محبت کو بھی استعمال کرتا ہے اپنے مفادات کے لیے اور بعد میں یہ بھول جاتا ہے کہ جس مقام پر اپنے رب کی وجہ سے پہنچا ہے وہ رب قادر ہے کہ تجھے اس مقام سے اوندھے منہ گرا دے"

ہم رب کے مہربان ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہ رب بھی ہمیں مایوس نہیں کرتا کیونکہ اللہ کے در سے خالی ہاتھ لوٹنا رب کی شان کے خلاف ہے، لیکن ہم نے کبھی نعمت مل جانے پر دل سے شکر ادا نہیں کیا_
یاد کیجیے! آخری بار کب آپ نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا؟
کب آپ نے ان نعمتوں پر سجدہ شکر بجا لایا کہ جن نعمتوں کی آپکو امید ہی نہیں تھی اور آپکو دی گئیں_؟ 
ہم واقعی شکر سے زیادہ شکوہ کرنے میں سب سے آگے ہیں، جسکی وجہ سے ہمارے اندر سے سکون کی دولت اٹھتی جا رہی ہے اور پریشانی، ناکامی، غصہ اور بے سکونی زیادہ ہوتی جا رہی ہے! 
نعمت کے حصول کے بعد ہم سرور کی محافل سجانا، بازاروں اور ہوٹلوں کا رخ کرنا اور 
"پوسٹ پراف اور پوسٹ رزلٹ ہینگ آؤٹس" 
کرنا تو نہیں بھولتے، بھولتے ہیں تو صرف اس ذات کا شکر ادا کرنا کہ جسکی وجہ سے یہ ناممکن ہمارے لیے ممکن ہوا____

پس گزارش یہ ہے کہ اپنی کامیابی کو ضرور منائیے، ہینگ آوٹس بھی ضرور کریں، لیکن رب کے ساتھ مخلص رہنا سیکھیے، جہاں وہ آپکے پراف کے دنوں کی چند سو-کالڈ نمازوں پر اور چند جھوٹی دعاؤں پر آپکو اتنا زیادہ عطا کر دیتا ہے تو یقیناً آپکے ہر شُکر، ہر نماز اور ہر نیک عمل پر اتنا زیادہ عطا فرمائے گا کہ آپکی استطاعت تو ختم ہو جائے گی لیکن اس کریم ذات کے خزانے کبھی ختم نہ ہونگے، ورنہ یاد رکھیں! وہ عطا کرنے پر بھی قادر ہے اور چھین لینے پر بھی!

اللہ ہم سب کو غور عطا فرمائے اور اپنے ساتھ مخلص رہنا سکھائے! 
                                         (آمین)

Comments

Popular posts from this blog

Final Year Surgery Exam: Important topics

FSc Premedical Guide - How to fly high..